(دادا مخدوم بانی بستی سرسی سادات کی مختصر تاریخ )
سید جمال الدین زیدیؒ ابن سید محمد واسطیؒ حضرت سید ابوالفرح واسطیؒ کے چاربیٹوں میں سے سید ابوالفضائل کی نسل سے ہیں آپ نے پنجاب سے سنبھلہیڑہ اور سنبھلہیڑہ ضلح مظفرنگر سے 588ھجری میں نقل مکانی کرکے ایک نئ بستی سراۓ شیعہ بسائی جو بعد میں سرسی کے نام سے معروف ہوگئ
دادا مخدوم کے دو بیٹےاورایک بیٹی تھی
(1) سید محمد اسماعیل (2) سید غلام حیدر (3) سیدہ ودودةالنساء
– سید اسماعیل لاولد تھے آپ دادا مخدوم کے ساتھ مدفن ہیں
– سید غلام حیدر نے سرسی سے بفرضِ تبلیغِ دین اسلام نقل مکانی کی اورضلح کرنال دریاۓ جمنا غربی کنارہ پر نئ بستی بسائی جو برست بڈولی سادات کے نام سے معروف ہے
– سیدہ ودودة النساء آ پ کی شادی سید زید کلاں نقویؒ ابن سید علی عرب نقویؒ نیشاپوری سے ہوئی تھی آپ دونوں کی قبریں دادا مخدوم کے ساتھ ہیں
سید علی عرب نقویؒ شہید نے 632 ھجری کو ایران کے شہر نیشاپور سے ھندوستان ھجرت کی اور 635 ھجری21 رمضان کو آپ کو علی پور سنبھل میں شہید کردیا گیا آپ کا مزار علی پور میں ہے آپ ہی کی نسل سرسی غربی سادات نقویہ کہلاتی ہے
سید زید کلاں نقویؒ ابن سید علی عرب نقویؒ شہید کے ایک فرزند سید حسن عارف نقوی تھے آپ دادا مخدوم سید جمال الدین زیدیؒ کے نواسے اور سید علی عرب نقویؒ نیشاپوری کے پوتے ہیں آپ کی قبردادا مخدوم کی درگاہ کے باہر ہے
آپ کے چار فرزند تھے
1 سید اکبرعلی نقوی جن سے سب( بڑے پوتے چودھری قاضی) معروف ہوۓ
2 سید حیدر علی نقوی جن سے سب (حیدرپوتے) معروف ہیں
3 سید اوسط علی نقوی جن سے سب (مانجھوپوتے) معروف ہوۓ
4 سیداصغر علی نقوی جن سے سب (خورد پوتے) معروف ہیں۔
یہ ہی 4 خاندان سادات سرسی نقویہ کہلاتے ہیں
آپ کے مزار کی ایک انوکھی کرامت:
آپ کے مزار کے اندرونی حصے میں آج بھی بچھو ڈنگ نہیں مارتا